اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی لبنان کے زیر قبضہ سرحدی دیہات میں اب مردے بھی صیہونی حکومت کی جارحیت سے محفوظ نہیں رہے۔ ان دیہات کے کئی نسلوں پرانے قبرستانوں کو بمباری، دھماکوں اور زمین ہموار کرنے کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعض قبرستان مکمل طور پر مٹا دیے گئے ہیں، جبکہ متعدد قبروں کے نشانات بھی ختم ہوچکے ہیں، جس کے باعث ان تک رسائی ناممکن ہوگئی ہے۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی لبنان کے 60 دیہات پر قبضے اور مسلسل حملوں کے باعث وہاں کے رہائشی اپنے مرحومین کو آبائی علاقوں میں دفنانے کے قابل نہیں رہے۔ چنانچہ انہیں اپنے پیاروں کی میتیں دوسرے علاقوں کے قبرستانوں میں عارضی طور پر دفن کرنا پڑ رہی ہیں۔ خاندانوں کو امید ہے کہ حالات بہتر ہونے پر وہ میتوں کو دوبارہ اپنے آبائی علاقوں میں منتقل کرسکیں گے یا اپنے خاندان کے پرانے قبرستانوں میں نئی قبروں کے لیے جگہ بنا سکیں گے۔
میس الجبل؛ تقریباً 20 ہزار قبریں تباہی کے خطرے سے دوچار
جنوبی لبنان کے سرحدی اور زیر قبضہ شہر میس الجبل میں 10 قبرستان ہیں، جہاں مقامی باشندوں کی رسائی ممکن نہیں رہی۔
شہر کے سابق میئر عبد المنعم شقیر کے مطابق، ان قبرستانوں میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار قبریں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر صیہونی حکومت کی جارحیت کے دوران زمین ہموار کرنے کی کارروائیوں اور بمباری سے متاثر ہوئی ہیں یا براہ راست تباہ کردی گئی ہیں۔
میس الجبل تک رسائی اور موقع پر نقصانات کا جائزہ لینا ممکن نہ ہونے کے باعث تباہ یا متاثر ہونے والی قبروں کی درست تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔
تاہم اس تباہی کے اثرات صرف پرانی قبروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ حالیہ وفات پانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ شقیر کے اندازے کے مطابق، مارچ کے حملوں کے بعد میس الجبل سے باہر دفن کیے جانے والے شہداء اور طبعی موت وفات پانے والوں کی تعداد تقریباً 150 ہے۔ ان افراد کو بیروت، صیدا اور جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں عارضی طور پر سپرد خاک کیا گیا ہے۔
بنت جبیل؛ 40 افراد کی دوسرے علاقوں میں عارضی تدفین
میس الجبل کی صورتحال صرف اسی شہر تک محدود نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے دوسرے سرحدی شہروں میں بھی لوگوں کو اپنے مرحومین کی عارضی تدفین کے لیے آبائی علاقوں سے باہر جانا پڑ رہا ہے۔
بنت جبیل میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً 40 ہوگئی ہے جنہیں عارضی طور پر شہر سے باہر دفن کیا گیا ہے۔ ان میں 16 شہداء بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو ان کے اہل خانہ کی رہائش کے قریب مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کی تدفین حی السلم کے علاقے، الاجنحہ الخمس میں واقع روضہ امام صادق (ع) قبرستان میں ہوئی ہے۔
بنت جبیل کی بلدیاتی کونسل کے رکن ہاشم السید حسن کا کہنا ہے کہ شہر کے قریب واقع چار قبرستانوں کے اطراف فضائی حملوں اور دھماکوں کے نتیجے میں درجنوں قبریں تباہ ہوگئی ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بھی اس تباہی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم ان قبرستانوں کے اطراف زمین ہموار کرنے کی کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کی صحیح مقدار ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔
یارون؛ ایک قبرستان مکمل تباہ، مسیحی قبرستان کی قبروں کی بھی بے حرمتی
جنوبی لبنان کے قصبے یارون میں تباہی محض قبروں کو نقصان پہنچنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک پورا قبرستان مٹا دیا گیا ہے۔
یارون کے میئر حافظ غشام کے مطابق، اس قصبے میں پانچ قبرستان ہیں، جن میں چار مسلمانوں اور ایک مسیحیوں کا ہے۔
ان کے مطابق، 2024ء کی جنگ کے بعد صیہونی فوج کے انخلا کے لیے مقرر کردہ 60 روزہ مدت کے دوران ان میں سے ایک قبرستان مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ اس قبرستان میں تقریباً 200 قبریں تھیں، جن میں سے بعض 200 سال سے بھی زیادہ قدیم تھیں۔
یارون کا مغربی قبرستان بھی شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ یہ قصبے کا قدیم ترین قبرستان ہے اور اس کی تاریخ 300 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ صیہونی فوج کی توپوں کی گولہ باری اور ڈرون حملوں نے اسے بری طرح متاثر کیا ہے۔
اسی طرح قصبے کے مشرقی قبرستان، جو البیادر کے علاقے میں واقع ہے، اور موجودہ قبرستان کو بھی مختلف سطحوں پر نقصان پہنچا ہے۔ موجودہ قبرستان میں تقریباً 300 قبریں ہیں، جن میں اس قصبے کے شہداء کی قبریں بھی شامل ہیں۔
مسیحی قبرستان میں قبروں کی کھدائی اور توڑ پھوڑ
یارون کا مسیحی قبرستان بھی صیہونی فوج کی بے حرمتی سے محفوظ نہیں رہ سکا، حالانکہ اس پر براہ راست بمباری نہیں کی گئی تھی۔
حافظ غشام کے مطابق، 2026ء کی جنگ کے دوران صیہونی فوجی اس قبرستان میں داخل ہوئے، قبریں کھود ڈالیں، مقبروں کو نقصان پہنچایا اور ان کے دروازے توڑ دیے۔
اس طرح یارون کے قبرستانوں کو پہنچنے والے نقصانات صرف گولہ باری اور دھماکوں تک محدود نہیں رہے بلکہ قبروں کی کھدائی اور مردوں کی بے حرمتی تک جا پہنچے۔
یارون میں واپسی کا راستہ بدستور بند ہونے کے باعث اس قصبے کے تقریباً 15 افراد کو آبائی علاقے سے باہر عارضی طور پر دفن کیا گیا ہے۔ ان کی تدفین صور، بیروت اور شویفات کے شہروں میں ہوئی ہے۔
غشام کا کہنا ہے کہ قصبے کی بلدیاتی کونسل اور اوقاف کمیٹی کو تدفین کے لیے جگہ فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ یارون کے بہت سے ایسے باشندے جو لبنان سے باہر رہتے ہیں، انہوں نے وصیت کی تھی کہ وفات کے بعد انہیں اپنے آبائی علاقے میں دفن کیا جائے، لیکن موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ان کی وصیت پر عمل ممکن نہیں رہا۔
بیت یاحون؛ 60 فیصد قبریں متاثر، تدفین کی سہولتیں بھی تباہ
بیت یاحون میں تباہی صرف قبروں تک محدود نہیں رہی بلکہ میتوں کی تدفین سے متعلق بنیادی سہولتیں بھی تباہ کردی گئی ہیں۔
قصبے کے میئر مصطفیٰ مکی کے مطابق، مارچ 2026ء میں لبنانی فوج اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں کے ہمراہ بلدیاتی انتظامیہ نے بیت یاحون میں داخل ہوکر نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس وقت قصبے میں تباہی کی شرح تقریباً 75 فیصد تھی۔
قبرستان پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ایک فضائی حملے کے نتیجے میں اس کے داخلی راستے پر گہرا گڑھا پڑ چکا تھا۔ نماز گاہ، میتوں کو غسل دینے کی جگہ اور قبرستان سے وابستہ ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ ہوچکی تھیں۔
قبروں کے کتبے بھی ٹوٹے ہوئے تھے، جس کے باعث قبروں کی شناخت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
مکی کے اندازے کے مطابق، اس قبرستان کی تقریباً 60 فیصد قبریں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ اب بیت یاحون میں تباہی کی شرح تقریباً 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور قبضے، بمباری، دھماکوں اور زمین ہموار کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث قبرستان تک رسائی بھی ناممکن ہوگئی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں بیت یاحون کے آٹھ باشندوں کو قصبے سے باہر عارضی طور پر دفن کیا گیا ہے۔ ان کی تدفین بیروت اور ان علاقوں میں ہوئی ہے جو ان کے اہل خانہ کی رہائش کے قریب ہیں۔
مسیحی خاندان بھی اپنے مرحومین کو آبائی علاقوں میں دفنانے سے محروم
جنوبی لبنان کے سرحدی دیہات میں اپنے مرحومین کی تدفین کا بحران صرف مسلمان خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ مسیحی خاندان بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ انہیں بھی اپنے پیاروں کو دوسرے قبرستانوں میں عارضی طور پر دفنانا پڑ رہا ہے، تاکہ اپنے علاقوں کی آزادی کے بعد انہیں دوبارہ آبائی قبرستانوں میں منتقل کرسکیں۔
یارون کی مسیحی رہائشی رولا سلوم نے 2026ء میں صیہونی حکومت کی جارحیت کے دوران اپنے والد اور والدہ کو کھو دیا۔ وہ ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے آبائی قصبے میں دفنانے سے قاصر رہیں اور مجبوراً ان کی تدفین دامور کے علاقے میں عارضی طور پر کرنا پڑی۔
ان کا کہنا ہے کہ والدین کو ان کی آبائی سرزمین میں دفن نہ کر پانا انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا۔ تاہم انہیں عارضی طور پر دفنانے کے لیے جگہ مل جانے سے کسی حد تک اس صدمے کا بوجھ کم ہوا ہے۔ انہیں اب بھی امید ہے کہ مستقبل میں اپنے والدین کی میتوں کو یارون منتقل کرسکیں گی۔
رولا سلوم اپنے والدین کی وصیت پوری نہ کرسکیں، جبکہ یارون کا مسیحی قبرستان بھی صیہونی فوجیوں کی کارروائیوں اور بے حرمتی سے محفوظ نہیں رہا۔ ان کارروائیوں میں مردوں کی حرمت کا بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔
صور میں مشترکہ عوامی قبرستان بنانے کی تجویز
جنوبی لبنان کے 64 دیہات کی تباہی اور مستقبل قریب میں ان علاقوں میں واپسی ناممکن ہونے کے باعث مرحومین کی آبائی علاقوں سے باہر عارضی تدفین ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ دوسرے شہروں میں دفن کیے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، جبکہ ان قبرستانوں میں جگہ کی گنجائش بھی محدود ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر لبنانی انجینئر ریاض الاسعد نے صور کے علاقے میں ایک قومی عوامی قبرستان قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جہاں مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی عارضی یا مستقل تدفین کی جاسکے۔
انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے سرکاری زمین یا ایسی مشترکہ اراضی مختص کی جائے جسے لبنان میں مشاعات کہا جاتا ہے، اور اس قبرستان کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری حکومت خود سنبھالے۔
الاسعد نے لبنانی اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحومین کی عارضی تدفین قابل قبول ہے، لیکن جب بحران طویل ہوجائے تو اسے مستقل حل نہیں سمجھا جاسکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ قبرستانوں میں تدفین کی گنجائش جلد ختم ہوسکتی ہے، جبکہ جنوبی لبنان کے تباہ شدہ دیہات میں واپسی کا وقت ابھی غیر یقینی ہے۔
اس تجویز کا مقصد صرف تدفین کے لیے جگہ فراہم کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں مزید سنگین ہونے والے بحران کو روکنا اور سوگوار خاندانوں کی مشکلات کم کرنا بھی ہے، تاکہ اپنے پیاروں کی وفات کے بعد انہیں جنگ کے تباہ کن اثرات کا سامنا تنہا نہ کرنا پڑے۔
ریاض الاسعد نے اس صورتحال کو ایک دردناک جملے میں بیان کیا ہے، جو اپنے پیاروں کو ان کی پسندیدہ سرزمین میں دفن نہ کر پانے والے خاندانوں کے کرب کی عکاسی کرتا ہے:
ہم نے موت کو قبول کرلیا، لیکن موت نے ہمیں قبول نہیں کیا۔
آپ کا تبصرہ